Login اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و صحبہ و بارک و سلم Tell A Friend 
Home About us Join us Contact us Gosha-e-durood Gosha-e-durood
Home
About Us
Join Us
News & Events
Articles
Gosha Nasheens
Remote Users
Submit Durood
Statistics
Photo Gallery
Downloads
Write a Review
Contact Us

Total

Durood Sharif
Recited by 18,332,898,278 times.



Hits : 5,500,991

Gosha-e-Durood - گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی (ص)

گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی (ص)

(ایم ایس پاکستانی)

تحریک منہاج القرآن کے گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ماہ اپریل کا پروگرام مورخہ 3 اپریل کو منعقد ہوا۔ یہ روحانی اجتماع تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کے سامنے گراؤنڈ میں ہوا۔ تحریک منہاج القرآن کے مرکزی امیر تحریک مسکین فیض الرحمن درانی نے پروگرام کی صدارت کی جبکہ صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے اس مجلس میں خصوصی شرکت کی۔ سجادہ نشین اجمیر شریف بلال احمد چشتی، سجادہ نشین داتا صاحب میاں محمد اعجاز، سلسلہ سفیہ پاکستان کے صاحبزادہ محمد شہزاد سیفی مجددی مہمان خصوصی تھے۔

ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض، ناظم امور خارجہ جی ایم ملک، سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک انوار اختر ایڈوکیٹ، امیر پنجاب احمد نواز انجم، مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، پروفیسر محمد نواز ظفر، حاجی امداد اللہ خان، علامہ محمد حسین آزاد، نگران گوشہ درود حاجی محمد سلیم قادری، خادم گوشہ درود حاجی محمد ریاض، ساجد محمود بھٹی اور دیگر مرکزی قائدین بھی معزز مہمانوں میں شامل تھے۔ پروگرام میں خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی جن کے لیے پنڈال میں الگ جگہ مخصوص تھی۔

پروگرام کا آغاز نماز عشاء کے بعد ساڑھے 8 بجے ہوا۔ قاری اللہ بخش نقشبندی نے تلاوت کلام پاک کا شرف حاصل کیا۔ کالج آف شریعہ کے محمد عنصر قادری، محمد شکیل طاہر، سرور صدیق اور دیگر نعت خوانوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں نعت خوانی کا شرف حاصل کیا۔ اس دوران شرکاء محفل نے ہاتھ ہلا ہلا کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

شب دس بجے صاحبزادہ حسین محی الدین قادری کا خصوصی خطاب شروع ہوا۔ آپ نے شان اولیاء اللہ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں کو دین کی خدمت کے لیے چن لیتا ہے تو یہ اس کا بہت بڑا انعام ہوتا ہے۔ اولیاء اللہ انہی میں سے ہیں۔ جب ان معزز بندوں پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے تو وہ رحمت محبت الٰہی میں بدل جاتی ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے خود کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اس محبت کا اظہار یوں کرتا ہے کہ وہ اس بندے کو اپنا اور اپنے محبوب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قرب عطا کر دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ خاص عطا ہے جو صرف اس کے خاص بندوں پر ہی ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ یہ قرب ہر بندے کو عطا کرتا ہے جو اس سے محبت کرتا ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو اپنا محبوب بناتا ہے جو اس کے محبوب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بھی محبت کرتے ہیں۔

دوسری طرف جس شخص نے دنیا کی محبت اختیار کی تو اسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لیے ہی خاص کر دیا۔ اس شخص سے قرب مصطفیٰ اور قرب خدا دور کر دیا جاتا ہے۔ اس دوری کا سبب اس کا دنیا سے لگاؤ ہے۔ یہ دنیا ایک فانی اور عارضی ٹھکانہ ہے۔ جس نے اس کو مستقل سمجھ لیا وہ اس دنیا کے لیے ہی رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے

إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَO

بیشک اﷲ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہےo

(الْبَقَرَة ، 2 : 222)

اللہ تعالیٰ طہارت کے بعد ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔ یہ طہارت ایمان کی پختگی کے لیے دولت کی محبت، حرص و حوس، لالچ اور دیگر آلائش دنیاوی سے چٹھکارا ہے۔ پھر ان میں جو لوگ کامل طہارت کے بعد متقی ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے خود محبت فرماتا ہے۔ ان پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کا نزول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وہ رحمتیں انوار و تجلیات کی شکل میں آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بندوں پر اپنے انعامات اور کرم کی اتنی بارش کرتا ہے کہ وہ اس کے محبوب ترین ہو جاتے ہیں۔

آپ نے کہا کہ تقویٰ سے انسان کی زندگی مزید طہارت والی ہو جاتی ہے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات کے انبار لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد بندہ اپنی زندگی میں توکل علی اللہ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے۔ ہر شے کو رحمت کے دامن میں جمع کر دیا گیا اور جو ان سے بہتر ہوئے تو ان کو اللہ تعالیٰ اپنی محبت عطا کرتا ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو بعد میں قرب الہی کا باعث بنتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا

إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَO

بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہےo

(آل عِمْرَان ، 3 : 159)

جب بندے پر انوار و تجلیات کی برسات ہوتی ہے تو پھر وہ اپنی زندگی میں توکل علی اللہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ہر مقام پر اللہ پر توکل مقصد حیات اور ایمان کا حصہ بن جاتا ہے۔ پھر ایک مقام وہ بھی آتا ہے جب گردنیں بھی کٹا رہا ہو تو وہ کسی معجزے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ اللہ پر توکل ہی کرتے ہیں۔ دوسری طرف ان کی اپنی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ زمین پر ایک پاؤں ماریں تو اس سے فرات کے چشمے نکل جائیں لیکن ان لوگوں نے صرف اللہ پر توکل کو اپنا ایمان بنایا۔ اس کے بعد انہیں وہ اعلیٰ مقام ملتا ہے کہ وہ قیامت تک امر ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا صاحبزادہ حسین محی الدین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے حصول کے لیے جو شخص پانچ گھاٹیوں کو عبور کریگا وہ اللہ کی رحمتوں کو سمیٹ لے گا۔ آپ نے کہا امام حسن بصری کے مطابق اللہ تعالیٰ سو رحمتوں کا مالک ہے۔ جب اس نے رحمتوں کی تقسیم کی تو صرف ایک رحمت دنیا کو دی اور باقی 99 رحمتیں اپنے پاس رکھیں۔ اس میں دنیا کی محبت، والدین کی محبت، اساتذہ کی محبت، بزرگوں کی محبت، بچوں کی محبت، مال دنیا سے محبت اور دیگر محبتیں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ 99 رحمتیں آخرت میں یوم قیامت کو اپنے نیک بندوں کے لیے رکھے گا۔ حق شفاعت سے مراد اولیاء اللہ دوسرے لوگوں کی شفاعت کرینگے۔ وہ اپنے ساتھ 70- 70 ہزار لوگ اپنے ساتھ جنت میں لے کر جائیں گے۔ اس وقت اللہ کی رحمت کا اندازا ہو گا۔ اس سے اللہ کے بندوں یعنی اولیاء کا نام بلند ہوگا۔ یہ وہ شان ہے جو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی رحمت کی شکل میں بندوں کو عطا کرے گا۔

اللہ تعالیٰ نےدنیا میں جو بھی چیز پیدا کی تو وہ اس کی رحمتوں کے اندر ہے۔ اس کے پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے۔ اس لیے دنیا میں کوئی بھی ذی روح بے مقصد نہیں ہے۔ اس لیے جب انسان ان بندوں کے قریب نہ آ سکیں تو وہ اس کو چاہیے کہ وہ ان سے وابستگی ظاہر کرے۔ جو لوگ اللہ سے محبت کرتے ہیں تو ان کے واسطے ہی ہماری نجات ہو گی۔ روز جزا میں سزا اور شفاء ان لوگوں کے مرہون منت ہے۔ اسی واسطے سے ہمیں شفاعت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نصیب ہوگی۔ آپ نے قرآن پاک کی اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ

إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَO

بیشک اﷲ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہےo

(الْبَقَرَة ، 2 : 195)

اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت اور قرب کا ایک فارمولہ دیدیا کہ اگر تم میری قربت چاہتے ہو تو احسان کرنے والے بن جاؤ۔ جو لوگ احسان کرنے والے ہوں گے تو ان سے آگے یہ محبت کا فیض تقسیم ہوگا۔

آپ کے خطاب کے بعد امیر پنجاب احمد نواز انجم نے شرکاء کو بتایا کہ اس ماہ پڑھے جانے والے درود پاک کی تعداد 28 کروڑ 76 لاکھ، 86 ہزار اور 913 ہے۔ اس کے ساتھ گوشہ درود کے اب تک پڑھے جانے والے درود پاک کی تعداد 4 ارب 41 کروڑ 40 لاکھ 18 ہزار اور 717 ہو گئی ہے۔

پروگرام میں صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے سجادہ نیشن داتا صاحب، سلسلہ سیفیہ کے صاحبزادہ محمد شہزاد مجددی کو تحریک منہاج القرآّن کی لائف ممبر شپ کی اسناد دیں۔ شمعون اصغر کو عالمی میلاد کانفرنس میں شاندار سپانسرشپ پر تحریک کی طرف سے شیلڈ دی گئی۔ پروگرام کے اختتام سے قبل درود و سلام پیش کیا گیا۔ اس کے بعد علامہ محمد شہزاد مجددی نے دعا کروائی۔

منہاج نعت کونسل نے درود پاک کا ورد کیا۔ پروگرام کی اختتامی دعا اور گوشہ درود میں ماہ فروری کے دوران پڑھا جانے والا درود پاک کا نذرانہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لیے مسکین فیض الرحمن درانی نے دعا کروائی۔ اس کے بعد تمام مہمانوں کے لیے لنگر کا خصوصی اہتمام بھی تھا۔ پروگرام کی نقابت کے فرائض محمد وقاص قادری نے سر انجام دیئے۔

 

         
 
Copyright © 2006 - 2010, Minhaj Internet Bureau, Lahore PK
Developed by Abdul Sattar Minhajian & Shahzad Ahmed +92(300)7903199