Login اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و صحبہ و بارک و سلم Tell A Friend 
Home About us Join us Contact us Gosha-e-durood Gosha-e-durood
Home
About Us
Join Us
News & Events
Articles
Gosha Nasheens
Remote Users
Submit Durood
Statistics
Photo Gallery
Downloads
Write a Review
Contact Us

Total

Durood Sharif
Recited by 18,332,898,278 times.



Hits : 5,501,078

Gosha-e-Durood - گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلٰوۃ علی النبی (ص)

گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلٰوۃ علی النبی (ص)

(ایم ایس پاکستانی)

تحریک منہاج القرآن کے گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلٰوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم مورخہ 6 مارچ کو منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کے سامنے گراؤنڈ میں ہوا۔ پروگرام کی صدارت امیر تحریک صاحبزادہ فیض الرحمٰن درانی نے کی جبکہ صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے خصوصی شرکت کی۔ ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض، گوشہ درود کے امیر الحاج محمد سلیم شیخ، ناظم امور خارجہ جی ایم ملک، سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک انوار اختر ایڈووکیٹ، امیر پنجاب احمد نواز انجم، زندہ پیر غالب لاہوری، مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، پروفیسر محمد نواز ظفر، حاجی امداد اللہ خان، طاہر حمید تنولی، علامہ حسن میر قادری، کرنل (ر) فضل عمیم، خادم گوشہ درود حاجی محمد ریاض، چوہدری محمد اشرف، ساجد محمود بھٹی، علامہ ارشاد حسین سعیدی، علامہ علی اختر اعوان، علامہ محمد شکیل ثانی، تحریک کے دیگر مرکزی قائدین اور منہاج القرآن ویمن لیگ کی مرکزی عہدیداران بھی معزز مہمانوں میں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ لاہور بھر سے کثیر تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز نماز عشاء کے بعد ساڑھے 8 بجے ہوا۔ قاری اللہ بخش نقشبندی نے تلاوت کلام پاک کا شرف حاصل کیا۔ کالج آف شریعہ کے محمد عنصر قادری، منہاج نعت کونسل، سرور صدیق اور شاہد ندیم کاہلوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں نعت خوانی کا شرف حاصل کیا۔ شاہد ندیم کاہلوں نے میاں محمد بخش کا عارفانہ کلام بھی پڑھا جس سے محفل میں روحانی ذوق دوبالا ہوگیا۔ پروگرام کی نقابت کے فرائض محمد وقاص قادری نے سرانجام دیئے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا کینیڈا سے ٹیلی فونک خطاب شب ساڑھے دس بجے شروع ہوا۔ آپ کا یہ خطاب کراچی، جھنگ، کوہاٹ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بذریعہ ٹیلی فون اور برطانیہ میں نیلسن ریڈیو سے براہ راست سنا جا رہا تھا۔

شیخ الاسلام نے اپنے خطاب کو گزشتہ موضوع "وقت کی قدر و اہمیت" سے شروع کیا۔ اس موقع پر آپ نے الشیخ ابن عطاء اللہ السکندری کے رسالہ "الحکم العطایہ" سے ایک قول منتخب کیا۔ تصنیف کے تعارف میں آپ نے کہا کہ "صاحب کنزالاعمال" امام علی التقی علاؤ الدین المکی الہندی نے اس رسالہ کو مختصر انداز میں مرتب کیا۔ اس کے بعد آج تک اس کی کوئی شرح نہیں لکھی گئی۔ اب میرے خطابات کی روشنی میں اس کی نئی شرح "الشرح الحکم" کے نام سے مرتب کی جائے گی۔ آپ نے صاحب تصنیف کے بارے میں بتایا کہ الشیخ ابن عطاء اللہ السکندری آپ الیشخ ابو العباس کے شاگرد ہیں۔ آپ کے استاد اور آپ دونوں کے مزارات امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ (صاحب قصیدہ بردہ شریف) کے مزار کے سامنے مصر کے شہر سکندریہ میں ہیں۔ اس وجہ سے بھی آپ کے نام کے ساتھ سکندریہ کا اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ رسالہ الحکم کو امام ابو الحسن شاذلی نے بھی مرتب کیا ہے۔ آپ نے معروف تصنیف "حذب البحر" مرتب کی ہے۔ آپ حضرت الغوث المغربی کے فیض یافتہ ہیں اور وہ براہ راست حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے شاگرد تھے۔

شیخ الاسلام نے الحکم العطایہ کی روشنی میں کہا کہ اس رسالہ میں الشیخ ابن عطاء نے نقل کیا ہے کہ اگر میرا ایک لمحہ بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دیدار سے خالی گزرتا تو میں خود اس لمحہ کے لیے مسلمان تصور نہیں کرتا۔

رسالہ میں وقت کی قدر و منزلت کے بارے میں یہ جملہ حاصل کلام ہے کہ "اے بندے اغیار سے خالی وقت کا انتظار نہ کر" شیخ الاسلام نے کہا کہ اس جملہ کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ اے انسان تو اپنے نیک اعمال کی بجا آوری کے لیے کسی دوسرے وقت کا انتظار نہ کر اور جو وقت تجھ کو میسر ہے اس کو غنیمت جان۔ ہو سکتا ہے جس وقت کا تو انتظار کرے وہ تجھے ملے بھی یا نہ ملے۔ اگر تو ایسے وقت کا انتظار کرے گا جو غیروں سے خالی ہو گا تو یہ سوچ اور یہ فکر تجھ کو خدا سے کاٹ دے گی۔ یہ سوچ تجھ کو اللہ کی بارگاہ سے کاٹ دے گی۔ آپ نے کہا کہ یہاں اغیار سے مراد افراد نہیں بلکہ وہ دنیا مشاغل اور کام ہیں جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتے ہیں۔ جو انسان کو رجوع الی اللہ سے روکتے ہیں۔

آپ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل جب کسی بندے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ اس بندے کو اپنی یاد میں مصروف کر دیتا ہے۔ جب بندہ اللہ کی یاد میں مشغول ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو اپنی یاد اور ذکر میں مصروف کر دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جب انسان اس دنیا میں رہ کر اس اللہ کو یاد کرتا ہے۔ اس لیے اے بندے خواہ تجھ کو دنیاوی کاموں نے ہی نہ گھیر رکھا ہو تو اپنے اعمال کی بجا آوری میں تاخیر نہ کر۔ آپ نے کہا کہ مردان حق وہ ہیں جس کا ذکر قرآن پاک میں یوں آیا۔

رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُO

(اللہ کے اس نور کے حامل) وہی مردانِ (خدا) ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے (بلکہ دنیوی فرائض کی ادائیگی کے دوران بھی) وہ (ہمہ وقت) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں (سب) الٹ پلٹ ہو جائیں گیo

(النُّوْر ، 24 : 37)

آپ نے کہا کہ اس طرح ہی توبہ ہے۔ توبہ کی دو اقسام ہیں۔

پہلی توبہ وہ جو بندہ اللہ سے کرتا ہے۔ اس سے مراد انسان کا اپنے گناہوں کی اللہ تعالیٰ کے حضور معافی مانگنا ہے۔ دوسری توبہ اللہ خود کرتا ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا انسان کی توبہ کو قبول کرنا ہے۔

آپ نے کہا کہ اللہ اور بندے کے درمیان محبت کا رشتہ بھی اس طرح ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کا بندے کی طرف متوجہ ہونا سب سے بڑا انعام ہے۔ ایک مقام محبت میں وہ بھی آتا ہے جب انسان اللہ سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالی اپنے بندے سے محبت کرتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے محب و محبوب بن جاتے ہیں۔ آپ نے کہا کہ اے بندے تو اس دل کی پیروی نہ کر جس کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیا گیا ہو۔ اللہ کو یاد کرنے والا اور اس کی یاد میں غافل رہنے والا دل، دونوں صورتوں میں دل مشترک قدر ہے۔ دل ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مردہ دل کو یوں بیان کیا۔

خَتَمَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌO

اللہ نے (ان کے اپنے اِنتخاب کے نتیجے میں) ان کے دلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑ گیا) ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہےo

(الْبَقَرَة ، 2 : 7)

دل ایک پوری دنیا ہے لیکن اس سے مراد دل کا جسمانی لوتھڑا نہیں بلکہ روحانی دل ہے۔ آپ نے کہا کہ دل کی دو حالتیں ہیں۔

ایک وہ دل جو ہر وقت اللہ کی یاد میں مصروف رہتا ہے۔

دوسری قسم وہ دل جس پر و دنیا کے اغیار و افکار غالب آ جا تے ہیں۔

پہلی قسم کے دل کو جو انسانی زندگی کے دھچکے لگتے ہیں ہیں تو وہ دل کو مغموم کر دیتے ہیں لیکن اللہ کا فضل نہ ہو تو دل بہک جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی بندے کو تھام لیتا ہے۔ دنیا کا گرد و غبار اس کے دل پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ جس طرح قرآن پاک میں ارشاد باری ہے۔

أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُO

جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہےo

(الرَّعْد ، 13 : 28)

اس طرح ایک دوسرے مقام پر قرآن میں ہے۔

أَلاَ إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَO

خبردار! بیشک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گےo

(يُوْنـُس ، 10 : 62)

دل جب دنیاوی بوجھ اور فکر سے پریشان ہوتا ہے تو بندہ سوچتا ہے کہ باہر کے غم، دنیا کے غم مجھے کیوں پریشان کر رہے ہیں؟ اگر ایسا ہو تو یہ بھی اللہ کا فضل ہے اور یہ نفس لوامہ کی نشانی ہے۔ اس کو دل کی حالت قبض بھی کہتے ہیں یعنی اس سے مراد روحانی طور پر دل کی قبض ہے۔ اہل فضل کی یہ دوسری علامت ہے۔ اس کے علاوہ ایک حالت بسط ہے اور اس حالت میں دل کو گھٹن رہتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ دونوں حالتوں میں ہی انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں۔

اس موقع پر شیخ الاسلام نے صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث مبارکہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب فرما رہے تھے جس سے دل نرم ہوگئے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس مجلس میں حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

وہ کہتے ہیں "میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے اُٹھ کر گھر آیا۔ بیوی بچے پاس آگئے اور کچھ دنیا کا تذکرہ شروع ہوا، بچوں اور بیوی کے ساتھ ہنسنا بولنا اور مذاق شروع ہو گیا اور وہ حالت جاتی رہی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں‌ تھی۔ اچانک خیال آیا کہ میں‌ پہلے کس حال میں‌ تھا۔ اب کیا ہوگیا؟ میں نے اپنے دل میں‌کہا، حنظلہ! تُو منافق ہو گیا ہے، کہ ظاہر میں جو کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں ‌تھی، اب گھر آ کے وہ نہیں رہی۔ اس پر دکھ اور پریشانی کے ساتھ یہ کہتا ہوا گھر سے نکلا کہ حنظلہ تو منافق ہو گیا۔

سامنے سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے تھے۔ میں‌نے ان سے عرض کیا "حنظلہ تو منافق ہوگیا" وہ یہ سن کر فرمانے لگے "سبحان اللہ! یہ کیا کہہ رہے ہو؟" میں نے صورتحال بیان کی۔ جب انہوں نے پوری بات سن لی تو بولے "یہ مسئلہ تو مجھے بھی درپیش ہے۔" اس لئے دونوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جا کر حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا "یا رسول اللہ! جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ جنت و دوزخ کا تذکرہ فرماتے ہیں تب تو ہم ایسے ہو جاتے ہیں‌ کہ گویا وہ ہمارے سامنے ہیں لیکن گھر جا کر بیوی بچوں‌میں پڑ کر بھول جاتے ہیں۔"

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تمھارا ہر وقت وہی حال رہے جیسا کہ میرے سامنے ہوتا ہے تو فرشتے تم سے بستروں اور راستوں میں مصافحہ کرنے لگیں۔"

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس فرمان سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے بھی محبوب لوگ ہیں جن سے فرشتے بھی ہاتھ ملانا اعزاز سمجھتے ہیں۔ آپ نے کہا کہ نفس امارہ انسان کو گناہ پر آمادہ کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو نیکوکاروں کی نیکی کی خوشی اس قدر نہیں ہوتی جتنی گنہگاروں کی توبہ سے ہوتی ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر دل کی حالت نہ بدلے تو اس کو مقام کہتے ہیں۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ اے انسان تو اس وقت سے ڈر جب تیرے لیے وقت بھی ختم ہو جائے گا۔ اے بندے تو جس وقت کو فارغ سمجھ کر اس کے انتظار میں ہے کہ زندگی میں نیکی کرنے کے لیے وقت مل جائے۔ کیا خبر کہ وہ وقت بھی تجھے نصیب ہو یا نہ ہو۔ اس لیے اس لمحہ وقت کو ہی غنیمت جان جو تیرے ہاتھ میں ہے۔ جو تیرے پاس ہے۔ تو حاضر وقت میں جس حال میں بھی ہے اس کو غنیمت جان کر اس میں ہی عبادت کر لے۔ اس وقت کو ملتوی نہ کر اور ہاتھ سے نہ چھوڑ دے۔ عمر کٹ جاتی ہے لیکن انسانی نفس کا بچھایا ہوا جال ختم نہیں ہوتا اس لیے اے بندے تو اس نفس کی خواہشات پر پہرہ نہ دے بلکہ اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لیے موجود وقت کو ہی غنیمت جان لے۔

شیخ ابن العطاء رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ بندے کا اعمال کی بجا آوری کو ٹالنا نفس کی رعونت اور تکبر ہے۔ اے بندے اگر تو آنے والے وقت کا ہی منتظر رہے گا تو یہ کبھی بھی تیرے پاس نہ آّئے گا۔ عقل مندی یہ ہے کہ جو لمحہ تیرے پاس ہے اس سے فائدہ اٹھا کر اللہ کے حضور معافی مانگ لے۔

شیخ الاسلام کا خطاب شب بارہ بجے تک جاری رہا۔ آپ کے خطاب کے بعد منہاج نعت کونسل نے درود پاک کا ورد کیا۔ اس کے بعد گوشہ درود میں ماہ فروری کے دوران پڑھے جانے والے درود پاک کا نذرانہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا۔ پروگرام کی اختتامی دعا مسکین فیض الرحمٰن درانی نے کروائی۔ اس کے بعد تمام معزز مہمانوں اور شرکاء محفل کے لیے خصوصی لنگر کا انتظام بھی تھا۔



 

         
 
Copyright © 2006 - 2010, Minhaj Internet Bureau, Lahore PK
Developed by Abdul Sattar Minhajian & Shahzad Ahmed +92(300)7903199