Gosha-e-Durood - گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی (ص)
گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی (ص)
(ایم ایس پاکستانی)
تحریک منہاج القرآن کے گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ
علیہ والہ وسلم مورخہ 7 فروری کو منعقد ہوئی۔ ماہ فروری کا یہ پروگرام گوشہ درود کے
نو تعمیر شدہ ہال میں ہوا اور یہ پہلا موقع تھا کہ گوشہ درود کے ہال میں مجلس ختم
الصلوۃ علی النبی منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے کی۔
تحریک منہاج القرآن کے امیر صاحبزادہ مسکین فیض الرحمن درانی، ناظم اعلیٰ ڈاکٹر
رحیق احمد عباسی اور نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض مہمان خصوصی تھے۔ ان کے علاوہ
امیر گوشہ درود حاجی محمد سلیم قادری، خادم گوشہ درود حاجی محمد ریاض، جی ایم ملک،
ڈاکٹر شاہد محمود، امیر پنجاب احمد نواز انجم اور دیگر قائدین بھی معزز مہمانوں میں
شامل تھے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد نعت خوانی کا سلسلہ شروع ہوا۔
کالج آف شریعہ کے حیدری برادران، منہاج نعت کونسل، محمد افضل نوشاہی اور دیگر نعت
خواں حضرات نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔
نعت خوانی کے بعد علامہ احمد نواز انجم نے گوشہ درود میں ماہ جنوری کے دوران پڑھے
جانے والے درود پاک کی رپورٹ پیش کی۔ ماہ جنوری میں 11 کروڑ 95 لاکھ 85 ہزار اور
671 بار درود پاک پڑھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی گوشہ درود کی مجموعی درود پاک کی تعداد 3
ارب 3 کروڑ 92 لاکھ 86 ہزار اور 72 ہوگئی۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرا لقادری کا بیرون ملک سے ٹیلی فونک خطاب شروع ہوا۔ شیخ
الاسلام نے شیخ احمد دین کی کتاب "الحکم العطایا" سے درس دیا۔ آپ نے اس کتاب کے
مصنف کے حوالے سے بتایا کہ صاحب مصنف کے نام کی وجہ سے اس کتاب کا نام رکھا گیا۔ اس
کتاب میں اخلاق حسنہ کے حوالے سے 100 جملے اور نصائح شامل ہیں۔ آپ نے بتایا کہ مصنف
کا لقب تاج الدین تھا اور وہ مصر کے رہنے والے اور مسلک کے شاذلی تھے۔ مصر میں امام
شرف الدین بوصیری اور شیخ سعد الدین کے مزار کے قریب آپ کا بھی مزار ہے۔ شیخ احمد
دین کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جلوہ ایک لمحہ کے لیے بھی اوجھل
ہو جائے تو اس وقت میں خود کو مسلمان نہیں سمجھتا۔ اس رسالہ کی بعد میں شروح بھی
لکھی گئیں اور ہندوستان کے الشیخ علی المنطقی المکی ہندی نے اس کو مرتب کیا۔
شیخ الاسلام نے اپنے خطاب میں شیخ احمد دین کی کتاب سے وقت کی اہمیت کے بارے میں
گفتگو کو موضوع بنایا۔ آپ نے اس کتاب کا یہ قول بیان کیا کہ "اے بندے تیرا وقت اور
اس کی چھوٹی سی گھڑی ایک سانس ہے۔ تیری سانس میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے
اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے کوئی نہ کوئی امر نہ کیا ہے۔ وقت چند گھڑیوں کا ایک مجموعہ
ہے۔ اس لیے ہم کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہم نے اس مختصر وقت میں کیا کرنا ہے۔ آپ نے کہا
کہ وقت کی کم سے کم اکائی ایک سانس ہے۔ اس سانس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔ جس نے وقت
کی پاسداری نہ کی وہ غافل ہے۔ جس شخض نے ظاہر میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی پاسداری کی
تو وہ اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان ہے۔ وقت کی پاسداری اور قدر نہ کرنے والا شخص اللہ
کے ہاں غافل ہے۔
شیخ الاسلام نے کہا کہ جب ہماری طبعیت میں فرحت اور خوشی ہو تو اس قرآنی حکم کی
روشنی میں ہم پر لازم ہے کہ اللہ کا شکر ادا کریں کیونکہ دھیان انسان کو نعمت تک
پہنچا دیتا ہے اور جب انسان کو نعمت مل جائے تو یہ اللہ تک پہنچا دیتی ہے۔ اس لیے
ہم سب کو اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے۔ اس مقصد اور کارکنان کی
تربیت کے لیے تحریک منہاج القرآن نے ایک منہاج العمل تیار کیا ہے۔ اس پر ہر تحریکی
عمل کرے۔ منہاج العمل میں ہر کارکن ممکن حد تک ہر وقت باوضو رہے، روزانہ سو مرتبہ
درود پاک اور سو مرتبہ استغفار پڑھے۔ سو مرتبہ کلمہ طیبہ کا ورد کرے، ہر سوموار،
جمعرات اور ہر ماہ کے ایام بیض میں روزہ بھی رکھے۔
اس حوالے سے شیخ الاسلام نے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ایک حدیث
مبارکہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ پیر اور
جمعرات کو بندے کے اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔ ان دنوں جنت کے دروازے
کھول دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دوسری حدیث مبارکہ میں حضور صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو مسلمان بھائی اپنے دوسرے بھائی کے لیے بغض رکھتا
ہے تو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ باقی سب جنت میں جائیں گے۔
شیخ الاسلام نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ ایام بیض کے روزے رکھنا اپنا معمول
بنائیں۔ آپ نے ایام بیض کی روزوں کی فضیلت کے حوالے سے کہا کہ جس نے ہر ماہ تین
روزے رکھے تو گویا اس سے زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہیں ہوا اور اسے رمضان المبارک
کی یاد رہتی ہے لیکن ان تین روزوں سے مراد یہ ہے کہ انسان ساری زندگی اس پر عمل
کرے۔ آپ نے بتایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے آدھی زندگی روزے رکھے۔ وہ ایک دن
روزہ رکھتے اور دوسرے دن چھوڑ دیتے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ہر ماہ چاند کی 13، 14
اور 15 تاریخ کو روزہ رکھتے۔ اس طرح جس نے ہر ماہ ایام بیض کے تین روزے رکھے تو وہ
قیامت کے دن اس حال میں کھڑا ہو گا جیسے اس نے ساری زندگی روزے رکھے ہوں۔
شیخ الاسلام نے کارکنان تحریک منہاج القرآن کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آپ تہجد کو
معمول بنائیں۔ روزانہ عرفان القرآن ترجمہ کے ساتھ ایک رکوع تلاوت قرآن پاک کریں۔
منہاج السویٰ سے ہر روز ایک حدیث مبارکہ پڑھیں۔ اس موقع پر آپ نے حضرت ابی بن کعب
سے مروی ایک حدیث مبارکہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب آدھی رات کا چاند گزر جاتا تو آپ
صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے:
يا ايها الناس اذکر الله. اذکر الله.
اے لوگو اٹھو اور اللہ کا ذکر کرو۔ اللہ کا ذکر کرو۔
اپنی زندگیوں کو بدل لو کہ قیامت قریب آ گئی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر شیخ الاسلام نے درود پاک کی فضیلت کے حوالے سے کہا کہ
اپنی زندگیوں میں سے جس قدر زیادہ وقت درود پاک کے لیے وقف کرو گے تو یہ آپ کو
فائدہ دے گا۔ آپ نے ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی صحیح حدیث مبارکہ بیان کی کہ ایک
شخص نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنی دعا میں ایک حصہ درود
پاک کے لیے وقف کرتا ہوں۔ کیا یہ کافی ہے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
فرمایا کہ جس قدر تو اضافہ کر لے۔ اس پر اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ
وسلم اگر دعا میں نصف حصہ درود پاک کے لیے وقف کر دوں تو یہ کافی ہے تو اس پر آپ
صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک بار پھر کہا کہ اگر تو چاہے تو اس میں بھی اضافہ کر
دے۔ پھر اس شخص نے سارا حصہ درود پاک کے لیے وقف کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ
وسلم نے فرمایا کہ تو درود پاک کی برکت سے دنیا اور آخرت کی پریشانیوں سے نجات پائے
گا۔
شیخ الاسلام کے خطاب کے بعد محفل ذکر منعقد ہوئی۔ اختتامی دعا مسکین فیض الرحمن
درانی نے کروائی۔ اس کے بعد تمام شرکاء میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔