Login اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و صحبہ و بارک و سلم Tell A Friend 
Home About us Join us Contact us Gosha-e-durood Gosha-e-durood
Home
About Us
Join Us
News & Events
Articles
Gosha Nasheens
Remote Users
Submit Durood
Statistics
Photo Gallery
Downloads
Write a Review
Contact Us

Total

Durood Sharif
Recited by 18,332,898,278 times.



Hits : 5,501,182

Gosha-e-Durood - ماہانہ مجلس ختم الصّلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم

ماہانہ مجلس ختم الصّلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم
رپورٹ : ایم ایس پاکستانی

گوشہ درود کی ماہانہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم 5 جولائی کو منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ کے سامنے منہاج القرآن پارک میں منعقد ہوا، جس میں امیر تحریک مسکین فیض الرحمن درانی اور ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی مہمان خصوصی تھے، دیگر مہمانوں میں ناظم امور خارجہ جی ایم ملک، مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، پروفیسر محمد نواز ظفر، زندہ پیر غالب لاہوری، گوشہ درود کے خدام حاجی محمد سلیم قادری، حاجی محمد ریاض، امیر پنجاب احمد نواز انجم، ناظم منہاج علماء کونسل علامہ فرحت حسین شاہ، صاحبزادہ محمد حسین آزاد، صاحبزادہ ظہیر احمد نقشبندی، امیر لاہور پروفیسر ذوالفقار علی، شکیل احمد طاہر، سید توقیر الحسن شاہ گیلانی، سجادالعزیز قادری اور دیگر علماء و مشائخ شامل تھے۔

ماہ جولائی کی اس مجلس ختم الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا آغاز شب 9 بجے ہوا۔ اس پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ تلاوت کے بعد نعت خوانی کا سلسلہ شروع ہوا۔ شکیل احمد طاہر، منہاج نعت کونسل اور دیگر نعت خوانوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد محمد افضل نوشاہی اور الطاف برادران نے بھی اپنے مخصوص انداز میں عارفانہ کلام کے علاوہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا نعتیہ کلام بھی پیش کیا۔ ان کے خاص انداز پر حاضرین محفل نے جھوم جھوم کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

شب 11 بجے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا بیرون ملک سے ٹیلی فونک خطاب شروع ہوا۔ اس موقع پر آپ نے اپنے خطاب کے آغاز میں بتایا کہ ماہ جون میں گوشہ درود اور دنیا بھر سے تحریک منہاج القرآن کے وابستگان کی طرف سے جو درود پاک پڑھا گیا اس کی تعداد 19 کروڑ 14 لاکھ 32 ہزار اور 595 ہے۔ مجوعی طور پر یہ عدد ایک ارب 56 کروڑ 59 لاکھ 78 ہزار اور 191 ہو گیا ہے۔ اس پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا الحمد للہ ثم الحمد للہ آقا علیہ السلام کے نعلین مبارک کے تصدق سے تحریک منہاج القرآن کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا ہے کہ اب تک جو گوشہ درود اور دنیا بھر میں تحریک کے رفقاء اور وابستگان نے جو درود پاک پڑھا ہے۔ اس کی تعداد مسلم دنیا کی موجودہ مجموعی تعداد (ڈیڑھ ارب) سے بھی بڑھ گئی ہے۔

شیخ الاسلام نے اپنے خطاب میں علم اور عمل کو موضوع بنایا اور کہا کہ جب انسان اپنا محاسبہ کرتا ہے تو یہ اس کو مراقبہ کی طرف لے جاتا ہے۔ مراقبہ مجاہدہ کر ضرورت پیدا کرتا ہے۔ مجاہدہ کے بعد مشاہدہ نصیب ہوتا ہے۔ اس موقع پر آپ نے اولیاء کا یہ قول بھی کوڈ کیا کہ

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔

جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا گویا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔

یہاں آپ نے اس پس منظر میں تلقین کی کہ آپ دو چیزوں پر خاص توجہ دیں

1۔ علم
2۔عمل

آپ نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہو گا کہ اس دنیا میں ہماری آمد کی ضرورت اور مقصد کیا تھا۔ آپ نے کہا کہ انسان اپنا محاسبہ کرے تو یہ علم ہے اور اس محاسبے کے بعد اس پر عملی توجہ دے تو یہ عمل ہے۔ آپ نے مزید کہا کہ جو انسان اپنی حقیقیت سے بے خبر رہا تو وہ جاھل ہے۔ علم کے بعد عمل صالح ہے۔ عمل صالح کے بغیر علم، علم نافع اور علم صحیح نہیں ہے۔

اس موقع پر آپ نے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا قول بیان کرتے ہوئے کہا کہ "عمل کے بغیر علم ایک جنون ہے" علم عمل کے بغیر ایک گورکھ دھندا اور جنون ہے۔ جو انسان کو گمراہی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ عمل کے بغیر علم ایک "بے پھل درخت ہے۔"

شیخ الاسلام نے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اور قول بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو صرف عمل کرتے ہیں تو انہوں نے کچھ نہیں پایا، اس طرح جن لوگوں نے صرف مجرد علم حاصل کیا اور عمل نہ کیا تو وہ بھی خسارے میں ہیں۔ آپ نے کہا کہ عمل کا درخت علم کے ذریعے پھل لاتا ہے۔ علم و عمل دونوں آپس میں ملیں تو کارآمد ہیں۔ اگر دونوں الگ الگ ہوں تو بیکار ہیں۔

اس حوالے سے آپ نے قرآن پاک کی پہلی وحی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے آقا علیہ السلام پر سب سے پہلے جو 5 آیات نازل فرمائیں وہ علم پر مشتمل ہیں۔ بدقسمتی سے آج مسلک اہلسنت میں (الا ماشاءاللہ) علم کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ دوسرے مسالک میں علم اور علمی ثقافت کا فروغ کم نہیں ہوا بلکہ ان کے ہاں علم کا کلچر زیادہ ہے۔ اس موقع پر آپ نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن علم کے احیاء کی عالمگیر تحریک ہے۔ یہ غار حراء کے پیغام کو عام کر رہی ہے۔ پیغام حرا علم ہے۔ اس تحریک سے وابستہ ہر شخص اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہر امتی آج اس علمی بحران کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ تحریک منہاج القرآن کا ہر کارکن خاص طور پر علم کے کلچر کو زندہ کرے۔ آپ علم پر محنت کریں اور اس کے ساتھ عمل صالح کو جوڑیں۔ آپ نے کہا کہ علم عمل صالح کے بغیر نافع نہیں ہے۔ علم کو سجدے نور میں بدل دیتے ہیں۔ علم کو شب بیداری، تقویٰ، اخلاص اور عبادت نور میں بدل دیتے ہیں۔

اس موقع پر قرون اولیٰ کے زمانے اور اولیاء کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے علم کا ایک حصہ اور عمل کے 9 حصے ملاتے۔ اس کے علاوہ قرون اولیٰ کے بعض اولیاء کرام اپنے عمل میں علم کی مقدار آٹے میں نمک کے برابر شمار کرتے۔ اس شرح کے ساتھ وہ اپنے عمل اور عمل صالح پر توجہ دیتے۔

آپ نے کہا کہ علماء، عاملین و کاملین اور صلحاء و اولیاء کو چھوڑ کر گزشتہ تین صدیوں سے یہ علم و عمل کا باہمی تعلق ٹوٹا ہوا ہے۔ اس بحران کا خاتمہ کرنا اور دنیا کو علم و عمل کے نور سے مزین کرنا تحریک منہاج القرآن کا عظیم فریضہ ہے۔

آپ نے حاضرین کو کہا کہ وہ لوگ جو صرف علم پر اکتفا کرتے ہیں اور علم کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں تو وہ غور کریں کہ ان کا یہ علم اگر ان کو دنیا میں گناہ سے نہیں بچا سکتا تو آخرت میں یہ انہیں دوزخ سے کس طرح بچائے گا؟ اس طرح آپ نے کہا کہ جس مجرد علم نے آپ کو اللہ کی اطاعت میں نہیں داخل کیا تو وہ جنت میں کیسے داخل کرے گا؟

شیخ الاسلام نے حاضرین محفل کو فکریہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج زندگی کے جو لمحات آپ کے پاس ہیں ان کو غنیمت جان لو۔ یہ دنیا کچھ عرصہ اور تھوڑا دورانیہ ہے جو قیامت کے ایک دن کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اس موقع پر آپ نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابوبکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے 400 مشائخ کی خدمت کا موقع ملا۔ میں نے اس عرصہ میں 4 ہزار احادیث اساتذہ کرام سے پڑھیں۔ ان احادیث میں سے میں نے اپنی زندگی کے لیے ایک حدیث مبارکہ کو اخذ کر لیا۔ اس کو زندگی کا دستور بنا لیا۔ آپ سے پوچھا گیا کہ وہ حدیث مبارکہ کون سی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ آقا علیہ السلام نے ایک دن صحابہ کرام کو ایک نصحیت فرمائی کہ اپنی دنیا کے لیے اتنا کچھ کرو جتنا آپ کا یہاں قیام ہے۔ آخرت کے لیے وہ انتظام کرو جو تمھارا وہاں قیام ہے۔ شیخ الاسلام نے اپنے خطاب کے آخر میں حاضرین محفل کو علم و عمل کے ساتھ کاربند رہنے کی تلقین بھی کی۔ شیخ الاسلام کے خطاب کے بعد محمد افضل نوشاہی، منہاج نعت کونسل اور شکیل احمد طاہر نے مشترکہ طور پر سلام پیش کیا۔ ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے اپنے مخصوص رقت آمیز انداز میں دعا کروائی۔ مجلس کے اختتام پر حاضرین میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔

 

         
 
Copyright © 2006 - 2010, Minhaj Internet Bureau, Lahore PK
Developed by Abdul Sattar Minhajian & Shahzad Ahmed +92(300)7903199